دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے کھل رہے ہ…
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بے زار ہو جاؤ ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری …
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا…
کہاں میں کہاں ہو تم جواب آیا جہاں ہو تم مرے جیون سے ظاہر ہو مرے غم میں نہاں ہو تم مری تو ساری دنیا ہو مرا سارا جہاں ہ…
ٹوٹنے والے بکھر کے بھی صدا نہیں دیتے مِٹا دیتے ہیں اپنی ہستی کو دغا نہیں دیتے درد تو دیتے ہیں یہ درد کا درماں بن کر درد…
اوروں کی کہانی میں سمایا نہیں کرتے دل، ثانوی کردار نبھایا نہیں کرتے کیا خوبیِ قسمت ہے محبت کے سوا ہم جھانسے میں کسی اور…
یہ دل اداس ہے بہت کوئی پیغام ہی لکھ دو تم اپنا نام نہ لکھو گمنام ہی لکھ دو میری قسمت میں غمِ تنہائی ہے لیکن تما…
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے …
دیکھ کر دل کشی زمانے کی آرزو ہے فریب کھانے کی اے غم زندگی نہ ہو ناراض مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی ظلمتوں سے نہ ڈر کہ رس…
تیری جستجو کےحصار سے تیرے خواب تیرے خیال سے میں وہ شخص ہوں جو , کھڑا رہا تیری چاہتوں سے ذرا پرے کبھی دل کی بات کہی …
جاگی آنکھوں کے خواب ہوتے ہیں کچھ تعلق عذاب ہوتے ہیں ٹوٹنے تک یہ کچھ نہیں ہوتے ٹوٹ جائیں تو خواب ہوتے ہیں کچھ مسائل کا…
تم نے جو بھی کیا ضروری تھا میرا یوں سوچنا ضروری تھا بن کئے مان لیں خطائیں سب کیوں! تجھے روکنا ضروری تھا جس نے سیکھی ن…
دُکھ تو یہی ہے اُس سے کنارا نہیں ہوا جو شخص لمحہ بھر بھی ہمارا نہیں ہوا میں کیا کسی کے ساتھ چلوں گا تمام عمر میرا تو ا…
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھ…
عکس ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮨﻮﮞ،ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺭﻭﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑِﮑﮭﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺳﻤﯿﭩﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻧﭗ ﺍُﭨﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻣَﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ…
شاعرہ پروین شاکر وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم…
محبت میں جو غم ملا ھے , یہی بہت ھے وہ رونے کو کہہ گیا ھے, یہی بہت ھے اگر وہ شخص اب میرا نہیں ھے کوئی غم نہیں گئے دنوں م…
ہم سفر بن کے ہم ساتھ ہیں آج بھی پھر بھی ہے یہ سفر اجنبی اجنبی راہ بھی اجنبی، موڑ بھی اجنبی جائیں گے ہم کدھر اجنبی اج…
کیا اثاثہ ہے جسے کھو بھی نہیں سکتے ہیں ہم ترے ہو کے ترے ہو بھی نہیں سکتے ہیں سب کی نظریں مرے دامن پہ جمی رہتی ہیں داغ د…
مگن کس دھن میں اپنے آپ کو دن رات رکھتا ہے نجانے آج کل وہ کیسے معمولات رکھتا ہے اثاثہ اس کے کمرے کا ہیں کچھ مغموم آواز…


Social Plugin