دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے کھل رہے ہ…
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا…
چلو اب ایسا کرتے ہیں ستارے بانٹ لیتے ہیں ضرورت کے مطابق ہم سہارے بانٹ لیتے ییں محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے…
نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تنِ داغ داغ لُٹا دیا فیض احمد فیض
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا Aur Kia Dekhne ko Baqi Hai App se Dil Laga k Dekh Liya فیض احم…
فیض احمد فیض اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے ------------------------------------ Jo Hum Pay Guzr…


Social Plugin