Ticker

6/recent/ticker-posts

دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں ــ فیض احمد فیض


دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں ــ فیض احمد فیض


دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں

تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب


دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے

کھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب


اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ

اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم


دور افق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ

گر رہی ہے تری دل دار نظر کی شبنم


اس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہے

دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات


یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق

ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے