رات کے آخری پہروں میں زرد شگن کے گھیروں میں خود کو ماضی برد کیا آباد پھر سے درد کیا سناٹا لوری سُناتا تھا من کو بے …
دیکھ ادھُوری میری چال نہ کر میرے زخموں پر ملال نہ کر رکھ شہہ رگ پہ ہاتھ کڑا میرے درد کا تُو خیال نہ کر میرے محسن ! میرے…
تم کیا گئے کہ اطمینانِ قلب و نظر چلا گیا میرے لہجے میں جو تمہارا تھا، وہ اثر چلا گیا تمہارے بعد بھی ساتھ تھ…
چپ کی ردا اوڑھے محبت محوِ خواب ہے اک آس تھی ترے ہونے سے اک یاس فقط اب باقی ہے راہگزرانِ بستیِ دل دیکھو تقدیر کا یہ تماش…
کوئی تو ہو... جسے ہمارے ساتھ چلنے کی آرزو ہو زمانوں سے... جسے رات کے آدھے پہر.. ہمیں مانگنے کی عادت ہو..…
آس ٹوٹ جائے تو دل کے دریچوں کے کواڑ بین کرتے ہیں محبت روٹھ جائے تو آنکھ میں پھر موتی رقص کرتے ہیں زندگی روٹھ جائے تو…
قہقوں کے شور میں سسکیاں دبا لیں سجائیں محفلیں اور تنہائیاں بسا لیں شکوہ تو ضرور ہے مجھے اس سے بہت کہ…
آئینے میں کمال اترا تھا،چودھویں کاچاند اترا تھا... ہم حیرت سے تکتے تھے..ایسا شاہکار اُترا تھا..... لفظ باتیں کرتے…
مدت بعد اسے ملے تو پوچھا) بتاؤ کیسے ہو؟؟ سپنے ملے؟؟ کوئی شہزادہ ملا؟؟ تاج محل بنا؟؟ یہ آنکھوں کے گ…
کوئی ہمیں بھی تو بتائے کہاں بکتی ہے مُشکِ عشق کہاں رہتی ہیں زُلیخائیں کہاں سجدہِ نقشِ پا ہے …


Social Plugin