دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے کھل رہے ہ…
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بے زار ہو جاؤ ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری …
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا…
کہاں میں کہاں ہو تم جواب آیا جہاں ہو تم مرے جیون سے ظاہر ہو مرے غم میں نہاں ہو تم مری تو ساری دنیا ہو مرا سارا جہاں ہ…
ٹوٹنے والے بکھر کے بھی صدا نہیں دیتے مِٹا دیتے ہیں اپنی ہستی کو دغا نہیں دیتے درد تو دیتے ہیں یہ درد کا درماں بن کر درد…


Social Plugin