میری سنو نہ سنو آج میں سناؤں گی
برا لگے تو لگے میں تمہیں ستاؤں گی
تمھیں پتنگے کی مانند جب ہو چاروں طرف
میں شمع کی طرح جل کر تمہیں جلاؤں گی
تمہاری باتیں ستائیں گی جب اکیلے میں
ہر ایک یاد کو سینے سے میں لگاؤں گی
قبول میری محبت اگر نہ کی تم نے
میں اپنی جاں پہ تمہیں کھیل کر دکھاؤں گی
یہ یاد رکھنا اگر مجھ سے تم کبھی روٹھے
میں کھانا تم کو منائے بنا نہ کھاؤ گی گی
ہمارے بیچ جو پیدا کرے غلط فہمی
خیال ذہن میں ایسے کبھی نہ لاؤں گی
وہ سر کا تاج ہے زبدہ میری محبت کا
زمین میں بن کے اسے آسماں بناؤں گی


0 تبصرے