Ticker

6/recent/ticker-posts

ان کے گیسو سنوارنے والے ہیں

ان کے گیسو سنوارنے والے ہیں


ان کے گیسو سنوارنے والے ہیں
سادہ دل لوگ مرنے والے ہیں

نیند کو آگ لگنے والی ہے
خواب سارے بکھرنے والے ہیں

پنکھا ،رسی، اداسی اور کمرہ
میرا نقصان کرنے والے ہیں

ہم کو نفرت سے سخت نفرت ہے
ہم محبت ہی کرنے والے ہیں

دل کے گھاؤ بھریں گے گھاؤ سے
کب دوا سے یہ بھرنے والے ہیں

پھول سارے اداس ہیں ایسے
جیسے قبروں پہ چڑھنے والے ہیں

زخم دل ہو کوئی نیا دانش
زخم پہلے تو بھرنے والے ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے