Ticker

6/recent/ticker-posts

کبھی تو شہر ستمگراں میں




 کبھی تو شہر ستمگراں میں 

کوئی محبت شناس آئے

وہ جس کی آنکھوں میں نور جھلکے

لبوں پے چاہت کی باس آئے


چلے تو خوشیوں کے شوخ جذ بے

ہماری آنکھوں میں موجزن تھے

مگر نہ پوچھو واپسی کے

سفر سے کتنے اداس تھے


ہمارے ہاتھوں مین اک دیا تھا

ہوا نے وہ بھی بجا دیا

ہیں کس قدر بدنصیب ہم بھی

ہمیں اجالے نہ راس آئے


ہماری جانب سے شہر والوں میں 

یہ منادی کرا دو، محسن

جسے طلب ہو متاع غم کی

وہ ہم فقیروں کے پاس آئے




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے